Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari

Mobi ´ پطرس کے مضامین ☆ Patras Bukhari

پطرس کے مضامینں باوجود اس احساس کے کہ ہم کو اور معاف کیجئے گا آپ کو بےدال کا بودم بنایا جا رہا ہے جھنجھلاہٹ کے بجائے گدگدانے کی ادا نکلتی ہے اور اسی کے ساتھ غو وتعمق کی دعوت ہوتی ہے۔ ان مضامین کے کاتب کو بھی ظرافت سے کافی بہرہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ علاوہ دیگر مخترعات کے ”ہاسٹل میں پڑھنا“ کے عنوان کو ہر جگہ ”ہاسٹل پر پڑنا“بنا دیا ہے۔ مضمون میں ظرافت کی چاشنی پہلے ہی فقرے سے شروع ہے ”ہم نے کالج میں تعلیم تو ضرور پائی اور رفتہ رفتہ بی اے بھی پاس کر لیا“۔ رفتہ رفتہ اور بھی کی معنویت دعوت نظر دیتی ہے آگے چل کر بی اے کے خانے اس خوبی سے گنوائے ہیں کہ بایدوشاید۔ مضمون میں ایسے خاندان کی ذہنیت کا خاکہ ہے جو مہذب اور اخلاق پسندیدہ کا مالک ہونے کے باوصف قدامت پسند ہے اور حال کو ماضی کے آئینہ میں مشتبہ نظروں سے دیکھتا ہے۔ لڑکے نے انٹرنس کا امتحان تیسرے درجے میں پاس کیا ہے تاہم خوشیاں منائی جا رہی ہیں دعوتیں ہو رہی ہیں۔ مٹھائی تقسیم کی جا رہی ہے۔ خاندان خوش حال ہے مگر باوجود استطاعت کے لڑکے کو مزید تعلیم حاصل کرنے کے لئے ولایت نہ بھیجنے کی معقول ترین وجہ یہ ہے کہ گردو نواح سے کسی کا لڑکا ابھی تک ولایت نہ گیا تھا“۔ بڑی ہمت کی تو لڑکے کو لاہور بھیج دیا مگرہاسٹل کے بجائے ایک ایسے اجنبی عزیز کے یہاں قیام کا فیصلہ کیا جاتا ہے جس سے رشتہ داری کی نوعیت معلوم کرنے کے لئےخاندانی شجرے کی ورق گردانی کرنا پڑتی ہے تاہم ہاسٹل پر اس کے گھر کو یہ

Patras Bukhari ☆ پطرس کے مضامین Ebook

کہہ کر ترجیح دی جاتی ہے کہ ”گھر پاکیزگی اور طہارت کا ایک کعبہ اور ہاسٹل گناہ ومعصیت کا دوزخ ہے“ ضمناً نفسیات کے اس پہلو پر روشنی پڑی کہ جذبات کو دبا کر تحت الشعور میں دھکیل دینا ان کو دُند مچانے کے لئے آزاد چھوڑ دینا اور ارتفاع میں مشکلیں حائل کرنایا ارتفاع سے محروم کر دینا ہے۔ پطرس کے الفاظ میں ”اس سے تحصیل علم کا جو ایک ولولہ ہمارے دل میں اُٹھ رہا تھا وہ کچھ بیٹھ سا گیا۔ ہم نے سوچا ماموں لوگ ماموں قسم کے لوگ؟ اپنی سرپرستی کے زعم میں والدین سے بھی زیادہ احتیاط برتیں گے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے دماغی اور روحانی قوےٰ کو پھلنے پھولنے کا موقع نہ ملے گا اور تعلیم کا اصل مقصد فوت ہوجائے گا۔ چنانچہ وہی ہوا“۔ بعد ازاں اس ”وہی ہوا“ کی شرح ہے۔ امتحانات میں پےدر پے فیل ہونا، صلاحیتوں کی بےراہ روی اختیار کرنا۔ صاف گوئی اور راستبازی کاکج مج راستے اختیار کرنا۔ غسل خانے میں چھپ چھپ کر سگریٹ پینا۔ المختصر وہ آزادی وفراخی ووارفتگی نصیب نہ ہوئی جو تعلیم کا اصل مقصد ہے“۔ پطرس نے مسئلے کے اس پہلو کو ظریفانہ انداز میں اس حسن وخوبی سے وضاحت کی ہے کہ طبیعت عش عش کرتی ہے۔ تفصیل میں جانا مضمون کی لذتیت کو فنا کر دینا ہے۔ پڑھئے اور لطف اندوز ہوجائے۔ کتاب کا مقصد بھی غالباً فوت ہو جائے گا اس کے مضامین کی چیر پھاڑ کی گئی۔ کتاب انگریزی کے اس مقولے کی بہترین ترجمان ہے کہ مذاق کے پردے میں بہت سی سنجیدہ باتیں کہہ دی جاتی ہیں۔

Doc پطرس کے مضامین

❰EPUB❯ ✷ پطرس کے مضامین Author Patras Bukhari – Srl-ltd.co.uk پطرس کے مضامین میں ظرافت عام رواج سے ہٹ کر ہے۔ اور اس کا آغاز مختصر دیباچے ہی سے ہوتا ہے ”اگر یہ کتاب آپ کو کسی نEPUB پطرس کے مضامین Author Patras Bukhari Srl ltdcouk پطرس کے مضامین میں ظرافت عام رواج سے ہٹ کر ہے۔ اور اس کا آغاز مختصر دیباچے ہی سے ہوتا ہے ”اگر یہ کتاب آپ کو کسی ن پطرس کے مضامین میں ظرافت عام رواج سے ہٹ کر ہے۔ اور اس کا آغاز مختصر دیباچے ہی سے ہوتا ہے ”اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے اگر آپ نے کہیں سے چرائی ہے تو میں آپ پطرس کے Kindle کے ذوق کی داد دیتا ہوں اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے یعنی آپ کی حماقت سے ہمدردی ہے اب مصلحت یہی ہے کہ آپ اپنی حماقت کونبا ہیں اور اسے حق بجانب ثابت کریں“۔ نہ معلوم یہ حقیقت ہے یا میری شک بھری طبیعت کہ پطرس کے اظہار حقیقت کی تہ میں بھی ظرافت کی ایک لہر دوڑی ہوئی ہے کیونکہ اپنے استاد کی خدمت میں اعترافِ ممنونیت ان الفاظ میں کیاہے ”اس کتاب پر نظر ثانی کی اور اسے بعض لغزشوں سے پاک کیا“ جس کا مفہوم میرے نزدیک اس کے سوا نہیں ہوسکتا کہ جہاں کوئی بات ہوش مندی کی دیکھی اسے حماقت میں بدل دیا۔ کتاب میں گیارہ مضامین ہیں جو بہ ظاہر ”ہولا خبطا پن“ کے شاہکار ہیں مگر فی الحقیقت سوسائٹی اور تمدن کی دکھتی رگوں کو چھوا ہے اور خامکاریوں اور سفیہانہ رواسم وتوہمات کا پردہ فاش کیا ہے۔ پطرس نے اپنا مطلب زیادہ تر مزاح میں طنز کی پُٹ دے کر نکالا ہے۔ بخلاف دیگر ظرافت نگاروں کے جو تمسخر کو آلہٴ کار بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین می

Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari Syed Ahmed Shah Urdu سید احمد شاہ commonly known as Patras Bokhari پطرس بخاری HI October Peshawar – December New York was an Urdu humourist educator essayist broadcaster and diplomat from Pakistan He is best known for his humorous writings in Urdu literaturePatras پطرس کے Kindle - received his early education from Peshawar and in he moved from Islamia College Peshawar to joi.

10 Comments on "Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari"

  • Nazish

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینA few days back when I first started this collection of short essays I was mostly found rolling on the floor laughing in my room for no reason Patras can pick up a very trite and boring topic like the Geography of Lahore and embellish it with such spices that one can't help reading it twice thriceor as many times as your literary tastes can take it Doubtless to say he is ranked among authors like Doughlas Adams and PGWodehouse though I'm not really sure if they were contemporaries This book must be read by everyone who understands Urdu and good humour Hats off to Bukhari for gifting P


  • Muhammad Abdullah

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینThis is an interesting amazing and humorous read I have enjoyed it a lot Syed Ahmad Shah commonly known as Patras Bukhari t


  • W

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینTitle The Essays of PatrasPatras Bokhari's literary fame rests on this slim compilation of humorous and satirical essaysIt is a uick readI found it a mixed bagalthough my expecta


  • Sana

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینIt was hilarious Even due to the fact that an excerpt from this book was included in my urdu textbook at school and I ha


  • Rania Tahir

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینthis book is just amazingone of the best short stories book i have ever readall the stories are hilarious and simply amazing


  • Hifza Khalid

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینWas first introduced to him by Lahore Ka jugrafia in first year Didn't catch my interest then Mainly because I was overthinking everything Decided to read of his work and I am surprised by how much I liked him His account on working women however brief was a little off putting in akhbar main zaroorat hai but his Mabel aur main was a uick save 😂 I thoroughly enjoyed the wholesome depiction of married life from a married mans point of view Was surprised that Patras made him cry because he missed his wife Don't know if it was supposed to be funny or just him trying to humanize men showing e


  • Omama.

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینPatras Bukhari has set an amazing landmark in constituting humorous prose in Urdu literature These essays contain various characters from everyday life; from a very dull student to a henpecked husband I read these in middle school; and I still remember laughing


  • Shaharyar Amjad

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینA collection of short essays for cheering you up Makes you feel good even in worse moods Makes you laugh and smile on each line


  • Fahad Naeem

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینI did not find Patras Bukhari humorous like many others It was uite boring and I found it difficult finishing it It only helped me strengthen my Urdu vocabulary


  • Anam Shafiq

    Ebook ò پطرس کے مضامین å Download Ï Patras bukhari پطرس کے مضامینAn amazing only piece of writing by Patras Bukhari My first introduction with the writer was when i read the story 'Marhoom Ki yaad Mein' It was extremely hilarious This story forced me to grab this book and read it all